Welcome"Unlock the treasure of emotions with our Shayari collection"
Most liked sher of the last month

زینب نے کہا مرقدِ شبیر پہ بھائی
آئی ہوں تری دید کو میں غم کی ستائی
بچی کو تری آئی ہوں زنداں میں سلا کے
دروں کی اذیت نہیں سہ پائی وہ بھائی
رکنے نہیں دیتے تھے ہمیں ظلم کے بانی
چلنے نہیں دیتی تھی ہمیں آبلہ پائی
زنداں میں سکینہ کے یہ نالے تھے کہ عمّوں
کیا آپکو راس آ گئی دریا کی ترائی
دولہا نہ بنا ہائے مرا گیسوؤں والا
مادر نے کوئی بیٹے کی منّت نہ بڑھائی
شمشیر بھی روتی تھی وہاں خون کے آنسو
بے شیر کی تربت جو شہ دیں نے بنائی
بعض آتا تھا نہ شمرِ لعیں کوئی ستم سے
نانا کی ہر اک گام پہ دی ہم نے دہائی
کس منھ سے مدینے کی طرف جاؤں میں بھیّا
سب لٹ گئی پردیس میں امّاں کی کمائی
الماس یہ کہہ کر کہ بہت روئی وہ دُکھیا
کیا کیا نہ ستم ہم نے سہے قید میں بھائی
Almas Zainab Rizviزینب نے کہا مرقدِ شبیر پہ بھائی
آئی ہوں تری دید کو میں غم کی ستائی
بچی کو تری آئی ہوں زنداں میں سلا کے
دروں کی اذیت نہیں سہ پائی وہ بھائی
رکنے نہیں دیتے تھے ہمیں ظلم کے بانی
چلنے نہیں دیتی تھی ہمیں آبلہ پائی
زنداں میں سکینہ کے یہ نالے تھے کہ عمّوں
کیا آپکو راس آ گئی دریا کی ترائی
دولہا نہ بنا ہائے مرا گیسوؤں والا
مادر نے کوئی بیٹے کی منّت نہ بڑھائی
شمشیر بھی روتی تھی وہاں خون کے آنسو
بے شیر کی تربت جو شہ دیں نے بنائی
بعض آتا تھا نہ شمرِ لعیں کوئی ستم سے
نانا کی ہر اک گام پہ دی ہم نے دہائی
کس منھ سے مدینے کی طرف جاؤں میں بھیّا
سب لٹ گئی پردیس میں امّاں کی کمائی
الماس یہ کہہ کر کہ بہت روئی وہ دُکھیا
کیا کیا نہ ستم ہم نے سہے قید میں بھائی
-Almas Zainab Rizvi













